ابنا: ہندوستان کے دارالحکومت نئي دہلي سے ملحق رياست اترپرديش کے ضلع مظفرنگر ميں کئي دن سے جاري ہندومسلم تصادم ميں مرنے والوں کي تعداد اکتيس سے تجاوز کرگئي ہے ۔ رپورٹوں کے مطابق شہر اور ضلع مظفرنگر کے مختلف ديہي علاقوں ميں کرفيو اور فوج و پوليس کي تعيناتي کے باوجود تشدد اور آتشزني کا سلسلہ پير کو بھي جاري رہا جس ميں متعدد افراد ہلاک اور زخمي ہوگئے ۔ مظفرنگر کے علاقے شاملي ميں بھي پير کو دو افراد کے ہلاک ہوجانے کي اطلاع ملي ہے ۔ادھر مظفرنگر کے پڑوسي ضلع ميرٹھ کے علاقے موانہ ميں بھي فرقہ وارانہ فسادات ميں ايک شخص ہلاک ہوگيا ہے جس کے بعد علاقے اور خود ميرٹھ شہر ميں حالات کشيدہ ہوگئے ہيں۔ دريں اثنا مظفرنگر شہر کے رام ليلا کے ٹيلا اور کھالا پارک سے فوج اور پوليس نے مشترکہ کاروائي کرکے ہتھياروں کا ذخيرہ پکڑ ليا ہے جس کے بعد علاقے ميں اور بھي کشيدگي پيدا ہوگئي ہے ۔دوسري طرف کنوال واقعے پر سنيچر کو ہوئي مہا پنچايت اور اس کے بعد ہونےوالے ہلاکت خيز واقعات کے خلاف چاليس لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرليا گيا ہے ۔ حکومت نے اس مہا پنچايت پر پابندي عائد کردي تھي مگر اس کے باوجود علاقے کي جاٹ برادري نے يہ پنچايت کي تھي ۔ يہ بھي خبر ہے کہ مظفرنگر ضلع ميں ہونےوالے فسادات کے سلسلے ميں بھارتيہ جنتا پارٹي کے چار اراکين اسمبلي پرفسادات کو ہوا دينے کے الزام ميں مقدمہ درج کرليا گيا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ رياست اترپرديش کے گورنر بي ايل جوشي نے مرکزي حکومت کے لئے اپني ارسال کردہ رپورٹ ميں کہا ہے مظفرنگر ميں حالات رياستي حکومت کے قابوسے باہر ہوگئے ہيں ۔ واضح رہے کہ مظفرنگر کے کنوال گاؤں ميں گذشتہ ستائيس اگست کو ايک لڑکي کے ساتھ مبينہ چھيڑخاني کے واقعے کے بعد تين لوگوں کي موت ہوگئي جس کے بعد سے مظفرنگر کے مختلف ديہي علاقوں ميں فرقہ وارنہ تصادم جاري ہے ۔ دوسري طرف رياست اترپرديش کي سابق وزير اعلي اور بہوجن سماج پارٹي کي سربراہ مايا وتي نے مرکزي حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ رياستي حکومت کو برطرف کرکے صدر راج نافذ کردے ۔...../169
8 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461181
ہندوستان کي رياست اترپرديش کے ضلع مظفر نگر ميں فرقہ وارانہ تصادم ميں ہلاک ہونے والوں کي تعداد اکتيس سے تجاوز کرگئي ہے ۔